PostHeaderIcon دہشت گردوں کو بلا تفریق شاہراؤں اور عوامی مقامات پھانسی دی جائے

دہشت گردوں کو بلا تفریق شاہراؤں اور عوامی مقامات پھانسی دی جائے۔علامہ عارف واحدی سا نحہ پشاور کھلی درندگی اور سفاکیت ہے ملوث مجرموں کو انجام تک پہنچایا جائے۔علامہ رمضان توقیر
unnamed (1)

جعفریہ پریس ہری پور( )حکمرانوں نے یورپی یونین کے کہنے پر سزائے موت پرپابندی لگائی۔ان خیالات کا اظہار تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ عارف واحدی اورتحریک جعفریہ پاکستان خیبر پختونخواکے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیر نے ہری پور کے مقامی ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پر یس کانفرنس میں تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ عارف واحدی، تحریک جعفریہ پاکستان خیبر پختونخواکے صوبائی صدرعلامہ محمد رمضان توقیر ، تحریک جعفریہ پاکستان خیبر پختونخواکے صوبائی جنرل سیکرٹری وسیم اظہر ترابی اور ہری پورکے ڈویژنل صدرمحمود علی نقی ایڈوکیٹ شریک تھے۔علامہ عارف واحدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے یورپی یونین کے کہنے پر پابندی لگائی۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے ساتھ دہشت گردی پھیلائی گئے۔اب جو یہ پھانسی دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اس کو بلا امتیاز جاری رکھا جائے۔ہم نے کئی سال پہلے دہشت گرد وں کے کیمپوں کی نشاندہی کردی تھی ۔لیکن انتظامیہ نے ان کے کوئی موثر کاروائیاں نہیں کی۔سانحہ پشاور کے بعد ملک میں جو سیاسی اور مذہبی اتحاد پیدا ہو ہے وہ ملک اور قوم کیلئے خوش آئندہ ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے سا نحہ پشاور کوکھلی درندگی اور سفاکیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملوث مجرم کو انجام تک پہنچایا جائے۔جتنی بے رحمی سے معصوم بچوں اور بے گناہ اساتذہ کو سفاکیت اور بربریت سے شہید کیا گیا۔یہ حکمرانوں کے کئے لمحہ فکریہ ہے ۔آپر یشن ضرب عضب کو پورے پاکستان میں شروع کیا جائے ۔پشاورسانحہ سمیت تمام ان دہشت گروں کوجنہوں نے سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ بے گناہ پاکستان میں انسانوں کو قتل کیا ان کو کیفر کردار تک پہنچا کر عوام کے زخموں پر مرہم رکھی جائے۔

PostHeaderIcon خون بہانے والوں پرکوئي رحم نہيں کیا جائے گا

خون بہانے والوں پرکوئي رحم نہيں کیا جائے گا

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک کے نو جوانوں، بچوں اورشہریوں کا خون بہانے والوں پر کوئي رحم نہيں کیا جائے گا -

پاکستانی وزیرا‏عظم نوازشریف نے لاہور ہائي کورٹ کی جانب سے پھانسی کی سزاپانےوالے مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمدکے خلاف حکم امتناعی جاری ہونے کے بعد یہ بیان دیا -

نوازشریف کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم کو ہدایت جاری کردی گئ ہے کہ حکم امتناعی کو ختم کرانے کے لئے تیز رفتاری سے کام کیاجائے-

لاہور سے جاری بیان میں حکومتی ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردوں کوسزائے موت دلانے کے لئے وزیرا‏عظم نے اٹارنی جنرل کے آفس اور سینئرقانونی ٹیم کو حکم امتناعی ختم کرانے کے لئے ضروری ہدایا ت جاری کردی ہیں-

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ہم نے تہیہ کرلیا ہے –

اس سے پہلے لاہور ہائي کورٹ راولپنڈي بینچ نے سزائے موت کے پانچ سویلین مجرموں کی سزائےموت پر حکم امتناعی جاری کردیا تھا –
لاہور ہائي کورٹ کے فیصلے میں کہا گیاہے کہ سویلین قیدیوں کو فوجی عدالت نے سزا سنائی تھی ، اور آرمی چیف نے ملزمان کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے تھے –

واضح رہے کہ دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ان مجرمین کو پیر کے دن لاہورکی کوٹھ لکھپت جیل میں سزائے موت دی جانی تھی

PostHeaderIcon پاکستان، پشاور اسکول حملے میں شامل مشتبہ دہشت گرد گرفتار

پاکستان، پشاور اسکول حملے میں شامل مشتبہ دہشت گرد گرفتار

پاکستان کی پولیس نے گزشتہ ہفتے پشاور اسکول حملے میں شامل مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ پشاور حملے کی سازش میں شامل تھے۔

خان نے گرفتاری کے سلسلے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی کہ کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے یا ان کی شناخت کیا ہے۔

منگل کو پشاور میں اسکول پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد حکومت نے جیلوں میں قید دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاؤں پر عملدرآمد پر پابندی ہٹا دی تھی۔

اس کے بعد جمعے کو دو مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد اتوار کو بھی دہشت گردی کے چار مجرموں کو پھانسی دی دے گئی۔

پاکستانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تقریباً 500 مجرم ہیں جن کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں اور ان کی سزاؤں پر عملدرآمد آئندہ ایک دو ہفتے میں ہو جائے گا۔

PostHeaderIcon پاکستان، سزائے موت کی بحالی پر اعتراض

پاکستان، سزائے موت کی بحالی پر اعتراض

پاکستان میں سزائے موت کی بحالی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پھانسی دینا دہشت گردی اورجرائم کا جواب نہیں ہے اور یہ عوام کے تحفظ میں حکومتی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسفک ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ پشاور کے اسکول پر حملہ خوفناک تھا لیکن اس کے جواب میں حکومت کی طرف سےمزید لوگوں کو ہلاک کرنا، کسی بھی طرح دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے درست جواب نہیں ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق اس وقت پاکستان میں 8 ہزار قیدی ایسے ہیں جنہیں سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ ان میں سے صرف 500 ایسے ہیں، جو دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ ہیں جبکہ بہت سے کیسز میں سزائے موت ،ایسی سماعت کے بعد دی گئی ہے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ سزائے موت کی بحالی، پشاور حملے سے اٹھنے والے اہم مسائل پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے جن میں سے ایک مسئلہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومتی ناکامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کو پھانسی دیکر بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کے راستے پر چلتی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے روس کی جانب سے روسی شہری اخلاق احمد کو سزائے موت نہ دینے کی درخواست مسترد کردی۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اخلاق احمد کی سزائے موت کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ اسلام آباد میں روسی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کی جانب سے کئی بار پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اخلاق احمد کی سزا پر ملتوی کرنے کی درخواست پر غور کرنے کا کہا گیا۔ خیال رہے کہ اخلاق احمد کو آج فیصل آباد میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اخلاق احمد کے پاس پاکستان اور روسی دونوں شہریت تھی۔

PostHeaderIcon دہشت گردوں کے ہمدرد اور مددگار ہمارے درمیان موجود ہیں

دہشت گردوں کے ہمدرد اور مددگار ہمارے درمیان موجود ہیں

پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ملک کے چاروں صوبوں کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں حساس علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کریں اور اس یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک افواج جنگ میں مصروف ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی فوج مکمل طور پر اسلامی ہے اور اس نے کبھی بچوں اور خواتین کو نشانہ نہیں بنایا۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پاکستانی فوج کی کارروائیوں کی ایک حدود متعین ہے اور شمالی وزیرستان میں فوج نے اس چیز کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عام شہریوں کا خیال نہ ہوتا تو پورا میرانشاء تباہ کردیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود مدرسوں پر آنکھیں بند کرکے تنقید نہ کریں کیونکہ 90 فیصد مدرسے دہشت گرد کارروئیوں اور دہشت گردوں سے دور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مدارس ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاہم صرف 10 فیصد مدارس ایسے ہیں جن کے دہشت گردوں سے روابط ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے اور ان کے خلاف کاروائی کی بھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سکول حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں کی ابھی شناخت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن دہشت گردوں کی شناخت ہو گئی ہے وہ سب پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی اور مشکوک افراد اور کاموں پر نظر رکھنی پڑے گی۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ جلد ہی ایک نمبر جاری کیا جائے گا جس پر لوگ اپنے ارد گرد ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع  دے سکیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے ہمدرد اور مددگار ہمارے درمیان موجود ہے، یہ سرحد پر لڑی جانے والی جنگ نہیں ہے کیونکہ دشمن ہمارے درمیان موجود ہے۔

انہوں نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں کافی غلط فہمیں موجود تھیں مگر نئی افغان قیادت نے آنے کے بعد سے کافی بہتریاں آئیں ہیں اور انٹیلیجنس شیئرنگ کا عمل بڑھانے پر مثبت بات چیت ہوئی ہے۔

PostHeaderIcon طالبان کا سرغنہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کا دعوی

طالبان کا سرغنہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کا دعوی

دہشت گرد گروہ تحریک طالبان کا سرغنہ ملا فضل اللہ ایک ہوائي حملے میں مارا گیا

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہ ٹی ٹی پی کے سر‏غنہ ملا فضل اللہ کو ہلاک کردیا گیا ہے-

اس رپورٹ ميں بتایا گيا ہے کہ افغانستان میں روپوش ملا فضل اللہ ہفتے کے روز ایک ہوائی حملے میں ہلاک ہوگيا ہے- گلف نیوز کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ہے کہ ملا فضل اللہ، پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کاروائی کے دوران مارا گيا ہے-

تحریک طالبان پاکستان کے سر‏‏غنہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت سے متلعق ابھی تک کوئي باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم اسلام آباد میں ایک سرکاری ذريعے نے گلف نیوز کو بتایا ہے کہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر جلد ہی جاری کردی جائے گي-

اس ذریعے کے مطابق ملا فضل اللہ کی لاش کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کئے جانے کا امکان ہے-

اس ذریعے کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو دہشت گرد گروہ تحریک طالبان کے سرغنہ کے خلاف کی جانے والی کاروائی سے متعلق تفصیلات سے ہفتے کے روز ہی مکمل طور پر باخبر کردیا گیا تھا-

PostHeaderIcon داعش گروہ زخمی اراکین کو قتل کردیتا ہے

داعش گروہ زخمی اراکین کو قتل کردیتا ہے

عراق میں دہشت گردگروہ داعش کے افراد اپنے زخمی ساتھیوں کا قتل عام کررہے ہيں

کرد پریس نے خبردی ہے کہ داعش کے افراد اپنے ان ساتھیوں کو جو پیشمرگہ ملیشیا اور جنگی طیاروں کے حملوں میں زخمی ہوگئے تھے اس خوف سے ہلاک کر رہے ہيں کہ کہیں انہيں گرفتار نہ کرلیا جائے –

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حویجہ کے علاقے میں داعش کے افراد نے اپنے ستائيس زخمی ساتھیوں کو قتل کردیا ہے جو سبھی غیر ملکی تھے –
اس سے پہلے بھی داعش کے افراد نے اپنے پانچ کمانڈروں کوموصل کے قریب قتل کرکے ان کی لاش کو چھت سے نیچے پھینک دیا تھا-
داعش کا کہناہے کہ ان لوگوں نےگروہ کے ساتھ غداری کی تھی-

تکفیری  ‍گروہ داعش نے شام میں بھی دیرالزور ہوائی اڈے کے قریب اپنے دوسو ساتھیوں کو اس لئےپھانسی پر لٹکادیا تھا کہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گئے تھے –

مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش کے افراد کے ذریعے اپنے ہی ساتھیوں کو اس بڑےپیمانے پر قتل کرنے کے واقعات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ اس گروہ کےاندر اختلافات کا فی بڑھ گئےہيں جبکہ شام اور عراق میں دونوں ملکوں کی افواج کے ہاتھوں مسلسل شکست کھانے کے بعد وہ سراسیمگی کا شکار ہے –

PostHeaderIcon عراقی فورسز کی داعش کے گڑھ موصل کی جانب پیش قدمی

عراقی فورسز کی داعش کے گڑھ موصل کی جانب پیش قدمی

عراقی فوج نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف لڑائی میں پیش رفت کرتے ہوئے کئی اور اہم علاقوں کو آزاد کرا لیا ہے اور اب وہ داعش کے گڑھ موصل کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

عراقی فوج نے جسے رضاکار فورسز اور کرد فورس پیشمرگہ کی حمایت حاصل ہے شمال مغربی علاقوں میں بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔

فوج اب سنجار شہر کے بہت نزدیک ہے اور اگر یہ داعش کے اس قلعے کو ڈھانے میں کامیاب رہتی ہے تو قدم داعش کی نام نہاد خلاف کے تابوت میں ایک اہم کیل ہوگا۔

دوسری جانب عراقی فورسز اور تکفیری دہشت گردوں کے درمیان بغداد کے شمال میں بیجی علاقے میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

خیال رہے کہ بیجی شہر اور اس علاقے میں واقع ریفائنری پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے گزشتہ چار مہینوں سے لڑائی جاری ہے۔

خیال رہے کہ تکفیری دہشت گردوں نے شام اور عراق کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ دہشت گردوں کو بعض مغربی اور عربی ممالک کی وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے، تاہم شامی اور عراقی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کی پیش رفت روک دی بلکہ کئی اہم علاقوں کو ان قبضے سے آزاد کرا لیا۔

PostHeaderIcon عراق، وفاء قصبے پر فوج کا کنٹرول

عراق، وفاء قصبے پر فوج کا کنٹرول

عراق کے صوبہ الانبار کی صوبائی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مغربی الرمادی کے وفاء قصبے کو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔

صباح کرحوت کا کہنا تھا کہ قصبے پر فوج کا مکمل قضہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی الرمادی سے 35 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع وفاء کی آزادی کے لئے فوج نے اتوار کو کاروائی شروع کی تھی۔  ان کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ قبائلی رضاکار بھی تعاون کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کاروائی میں دسیوں دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ صباح کرحوت نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکارو ںے علاقے کی تمام سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشن کو اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے۔

عراق کے صدر نے ملک کے شہریوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

عراقی صدر فؤاد معصوم نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ عراق میں دہشت گردی کو شکست دینے اور اس کی بیخ کنی کے لئے ملک کے تمام فرقوں میں اتحاد اور تعاون ضروری ہے۔

معصوم نے کہا کہ عراقی شہری شدت پسند گروہوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے جو اسلام کے حقیقی اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عراق اور شام میں تكفيری دہشت گرد گروہ داعش، اسلام کے نام پر معصوم لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ اس گروہ کو امریکہ سمیت کچھ عرب اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

PostHeaderIcon عراق، دہشت گردوں کے خلاف کی مسلسل کامیابیاں جاری

عراق، دہشت گردوں کے خلاف کی مسلسل کامیابیاں جاری

عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

ایک طرف کرد ملیشیا نے حملے تیز کرتے ہوئے شمالی علاقے سنجار تک جانے والے راستے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے بعد وہ سنجار سٹی میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ دوسری طرف عراقی فوج نے شمالی شہر تلعفر کے فوجی ہوائی اڈے کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کر دیا ہے۔

عراق کے انسداد دہشت گردی فورس نے صوبہ نینوا میں اہم آپریشن کرکے ہوائی اڈے کو آزاد کرا لیا۔  آپریشن میں رضاکار فورسز کے دستوں اور کرد ملیشیا کے دستوں نے بھرپور تعاون کیا۔ صوبہ  نینوا عراق میں داعش کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ صوبے کے تلعفر سٹی میں کئی مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں اور تقریبا ایک درجن دہشت مارے گئے ہیں۔ نینوا کے سہل نامی علاقے میں بھی متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

در ایں اثنا کرد ملیشیا، عراق – شام کی سرحد پر واقع شہر سنین الربیعہ کی جانب پیشرفت کررہی ہے۔ سرحدی شہر کی اہمیت اس لئے ہے کہ یہ شہر دہشت گردوں کی سپلائی لائن کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

صوبہ الانبار اور صلاح الدین میں بھی کئی مقامات پر دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیجي سٹی میں دہشت گردوں کے ایک حملے کا ناکام بناتے ہوئے فوج نے کئی دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسی درمیان دہشت گردوں نے كركوک میں کم سے کم دو مقدس مقامات کو منہدم کر دیا ہے۔

ادھر عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادي نے اتوار کو اپنے کویت کے دورے میں  اس ملک کے فرمانروا شیخ صباح احمد جابر صباح سے ملاقات کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے راستوں کا جائزہ لیا ۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔  عراقی حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اردن نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا وعدہ دیا ہے ہم کویت سے بھی چاہتے ہیں کہ اس بڑے مسئلے سے نمٹنے میں ساتھ دے۔

سرچ
تازترین خبریں
خبریں بائی ڈیٹ دیکھیں
تصاویر گالری
ya-zahra milad bi14 12
اشتھارات
ویڈیو
صادرفین
  • User Online: 2
  • Today Visit: 317
  • Today Visitor: 149
  • Yesterday Visit: 993
  • Yesterday Visitor: 217
  • Week Visit: 1310
  • Month Visit: 1310
  • Years Visit: 1310
  • Total Visit: 1310
  • Total Visitor: 366